زہر خند

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ ہنسی جو غصے، ناگواری یا شرمندگی کے سبب ہو، زہر ملی ہوئی مسکراہٹ، تلخ ہنسی، طنزیہ مسکراہٹ یا ہنسی۔ "اس کی چھاتی سے خون ابھی تک رس رہا تھا، اسے دیکھ کر آنند کے چہرے پر ایک زہر خند کے نقوش پھیلنے لگے۔"      ( ١٩٨٤ء، اور انسان مر گیا، ١٦٠ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'زہر' کے ساتھ فارسی مصدر 'خندیدن' سے مشتق صیغۂ امر 'فرخند' سے 'زہر خند' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٦ء کو "دفتر فصاحت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ ہنسی جو غصے، ناگواری یا شرمندگی کے سبب ہو، زہر ملی ہوئی مسکراہٹ، تلخ ہنسی، طنزیہ مسکراہٹ یا ہنسی۔ "اس کی چھاتی سے خون ابھی تک رس رہا تھا، اسے دیکھ کر آنند کے چہرے پر ایک زہر خند کے نقوش پھیلنے لگے۔"      ( ١٩٨٤ء، اور انسان مر گیا، ١٦٠ )

جنس: مذکر